عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کے پاس ایک اجنبی شخص کی شکل اختیار کر کے آئے۔ ان کے کچھ صفات اس طرح تھے کہ ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ ان کے جسم پر سفر کا کوئی اثر، جیسے تھکاوٹ، دھول مٹی، بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور کپڑوں کا میلا کچیلا ہونا وغیرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ وہاں موجود کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہيں پا رہا تھا۔ اس وقت صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی طرح بیٹھ گئے اور اس کے بعد آپ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں دونوں گواہیوں کا اقرار، پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا، زکوۃ اس کے حق داروں کو دینا، رمضان مہینے کے روزے رکھنا اور استطاعت رکھنے والے کے لیے کعبہ کا حج کرنا شامل تھا۔
جواب سننے کے بعد سوال کرنے والے نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کو اس بات کا تعجب ہوا ان کا سوال کرنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ جانتے نہیں ہيں، لیکن وہ آپ کی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔
پھر انھوں نے آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جو جواب دیا، تو اس میں ایمان کے چھ ارکان شامل ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں؛ اللہ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان رکھنا، اسے اپنے افعال، جیسے تخلیق وغیرہ میں اکیلا ماننا اور بس اسی کو عبادت کا حق دار جاننا، اس بات پر ایمان رکھنا کہ فرشتے، جن کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے، اس کے معزز بندے ہیں، جو اس کی نافرمانی نہيں کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اترنے والی کتابوں، جیسے قرآن، تورات اور انجیل وغیرہ پر ایمان رکھنا، انسانوں کو اللہ کا دین پہنچانے والے رسولوں، جیسے نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنا، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا، جس میں موت کے بعد کی برزخی زندگی کے ساتھ ساتھ اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا اور حساب وکتاب کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اس کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا پھر جہنم اور اخیر میں اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ نے اپنے سابقہ علم اور اپنی حکمت کے مطابق ساری چیزوں کا مقدار مقرر کرکے ان کو لکھ رکھا ہے اور بعد میں وہ ساری چیزیں اللہ کے ارادے سے اور اس کے اندازے کے مطابق ہی سامنے آتی ہيں اور وہی ان کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے احسان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، تو اللہ کی عبادت یہ سوچ کر کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پہلا مقام مشاہدے کا ہے، جو کہ سب سے اونچا ہے اور دوسرا مقام مراقبے کا ہے۔
پھ انھوں نے آپ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کب آئے گی، یہ بات ان باتوں میں سے ہے، جن کو اللہ نے کسی کو نہيں بتایا ہے۔ لہذا اس کا علم کسی کے پاس نہيں ہے۔ نہ جس سے پوچھا گیا ہے، اس کے پاس اور نہ پوچھنے والے کے پاس۔
بعد ازاں انھوں نے آپ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ باندیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی بہتات ہوگی یا پھر یہ کہ بچے اپنی ماؤں کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگیں گے اور ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کریں گے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آخری زمانے میں بکریوں کے چرواہوں اور فقیروں کے سامنے دنیا کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ خوب صورت اور مضبوط محلوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پوچھنے والے جبریل تھے، جو صحابہ کو اسلام سکھانے کے لیے آئے تھے۔
Hadeeth details